جب مذہبی وسوسے، احساسِ جرم، گھبراہٹ اور بے خوابی کئی سال رہیں تو آپ اور آپ کا دوست دونوں تھک جاتے ہیں۔ یہ صفحہ بتاتا ہے کہ سائیکائٹرسٹ دوبارہ تشخیص کیسے کرتا ہے، دوا کب مفید ہو سکتی ہے، اور تھیراپی نہ نبھرنے پر آپ کیا اگلے قدم اٹھا سکتے ہیں۔
یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ آپ کے دوست کو اتنی مشکل کا سامنا ہے۔ مذہبی وسوسے، شدید اوور تھنکنگ اور احساسِ جرم کا ساتھ ساتھ آنا حقیقت میں بہت تکلیف دہ ہے، اور جب بات کرنے میں بھی دشواری ہو تو یہ مزید تنہائی کا احساس دلاتا ہے۔ آپ نے بہت اچھا کیا کہ ان کی مدد کے لیے پوچھ رہے ہیں۔
سیدھی بات کریں تو میں دوا تجویز نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کسی بھی دوا کا نام یا مقدار بتا سکتا ہوں۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ سائیکالوجسٹ تھراپی دیتے ہیں، جبکہ دوا صرف سائیکاٹرسٹ (psychiatrist) لکھ سکتا ہے جو کہ پہلے ڈاکٹر ہے۔ اگر آپ کے دوست کو سائیکالوجسٹ سے بھی پہلے فرق نہیں پڑا تو اسے ضرور کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے ملنا چاہیے۔ سائیکاٹرسٹ تھراپی اور دوا دونوں پر غور کر سکتا ہے، اور نیند نہ آنے جیسی علامت کے لیے مناسب علاج دے سکتا ہے۔
کچھ لوگ وٹامن ڈی، بی 12 یا میگنیشیم کی کمی سے بھی بے چینی اور نیند کی دشواری محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی بہت عام ہے۔ لیکن بغیر خون کا ٹیسٹ کرائے کوئی سپلیمنٹ شروع نہ کریں۔ اگر ٹیسٹ میں کمی نکلے تو ڈاکٹر مناسب مقدار بتا سکتا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھنے کے لیے depression.pk/supplements-for-depression دیکھیں، لیکن ہمیشہ ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔
آپ کا دوست تنہا نہیں ہے۔ یہ وسوسے بہت سے لوگوں کو ہوتے ہیں اور صحیح علاج سے انشااللہ بہتری آ سکتی ہے۔ ذرا سی بات کریں اس سے، اسے بتائیں کہ آپ اس کا ساتھ دیں گے۔
Names and cities shown here are examples. Every question is published anonymously — we never ask for, store or show the name, city or contact details of the person who wrote it.
You don't have to work this out from an article. We're free, private, and here right now — in English, Urdu or Roman Urdu. No signup, no waiting, no judgement.
Other questions people asked about the same thing, answered the same way.